ملاقات
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad., Calgaryتمهیں بھی یاد تو ہو گی؟... وہ ہماری پہلی ملاقات ؟
کہ مہکتی ہـے جوشگُفتہ گُلابوں کی طرح اب تک
ذھن ودل کے سبھی دریچوں میں
وہ جون کی تپتی سہ پہر ...تمهارا مجھے ملنے چلےآنا
وه جھکی جھکی سی، نظریں تمھاری
میں مُنتظر ہی رہی کہ کب نظریں وہ اٹھیں گی؟
پهر یکبارگی مجھے یہ احساس ہوا
کہ محبت کرنے والوں کو یہی دھڑکا سا رہتا ہو
یوں دیکھنا ان کا... اس مستُور، پاکیزہ، نوخیز محبت کو
کہیں میلا نہ کر ڈالے
مہ و سال کے اس دلکش حسیں سفر پہ نظریں دوڑاؤں تو لگتا ہے
یہ عزت، مان یہ رُتبـے، محبت کی عنایت ہیں
یہ ساری وعید محبت کی ہے
کہ لب و لہجے خود بخود گُداز ہو جائیں
دلوں کی بنجر مٹی سے
محبت کا ایسا تن آور درخت نکلتا ہے
دو انسان متحیر کھڑے سوچتے ہیں
عشق نگری کے ہیں انوکھے بھید یہ کیسے؟
کہ ہر اک موڑ پر اس میں ..نِت نئے ڈھنگ کی ملاقاتیں
اپنے رُوپ ہی سے ہو جائیں
یہ"پتھر " سے "پارس" تک کا جتنا بھی سفر تھا
کب کیسے طے کیا؟ عقل حیران ہے
مجھے تو بس آج بھی وہ سہ پہر یاد ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






