مزارِ قائدؒ کا ایک منظر
Poet: Akram Sohail By: Akram Sohail, Karachiدسمبر 2011ئ
پیامِ نو پہ ہیں رقصاں اُٹھائے ہاتھ جواں
یہ انقلاب کے نعرے یہ پرچموں کی بہار
نوید دورِ ترقی ، یہ پیامِ اُمید
یہ کیسے خواب ہیں آنکھوں میں کیسا جوش و خمار
مزارِ قائدؒ کے سائے میں بیٹھا ایک بوڑھا
ہیں جس کی آنکھوں میں رقصاں مناظرِ دوراں
ہیں دیکھے جس نے یہ منظر ہزار بار یہاں
بِتائی جس نے جوانی انہی حوالوں سے
تھے جس نے خواب بھی دیکھے نئے اُجالوں کے
یہ آج پھر ہے تماشائی انہی حوالوں کا
جواب ڈھونڈنے آیا انہی سوالوں کا
نظامِ چرخ ہے بدلا ہزار بار مگر
مگر نہ بدلا مقدّر کبھی غریبوں کا
نظامِ جبر کے قیدی نہ چُھٹ سکے ہیں کبھی
نہ ان گھروندوں سے نکلی سیاہ رات کبھی
نظامِ زر ، یہ جاگیریں ، نشانِ غدّاری
ہر اِک نظام پہ قابض انہی کی اولادیں
نئے سے رُوپ میں اب پھر ہمیں مخاطب ہیں
’ ہماری ارضِ وطن کے یہی محافظ ہیں ؟ ‘
ہر اِک بار نیا رُوپ دھار آتے ہیں
وہی شکاری نیا جال ساتھ لاتے ہیں
یہ بوڑھا آج بھی آیا مزارِ قائدؒ پر
جوان جسموں کی آنکھوں میں خواب دیکھتا ہے
’ جنون ‘ جوش میں رقصاں ، مگر وہ سوچتا ہے
اگر نہ پائے یہ تعبیر اپنے خوابوں کی
اگر سُراغ ملے نہ نشانِ منزل کے
اگر بھٹکتے رہے یونہی پھر سرابوں میں
علاج گردشِ دوراں اگر بہم نہ ہوئے
یہ سارے درد کے موسم اگر ختم نہ ہوئے
میری طرح کسی دن مزارِ قائدؒ پر
جوان یہ جسم بڑھاپے کی اوڑھنی لے کر
کسی کی گُونجتی تقریر سُن رہے ہوں گے
یہاں پہ اور کوئی محوِ رقص ہوں گے یونہی
کس کے سِحرِ بیاں پہ وہ خُوش گُماں ہوں گے
دکھاتا ہو گا جو خوابوں کے خوشنما منظر
کسی نے اور بھرا ہو گا سوانگ رہبر کا
نئے سرابوں کے پھر اور قافلے ہوں گے
صلیبِ درد کے پھر اور سلسلے ہوں گے
ایک اور سفر شروع ہو گا پھر اندھیروں کا
سراغ ڈھونڈنا ہو گا ہمیں سویروں کا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






