مرحوم والد کا جواب غمزدہ بیٹی کے نام
Poet: Shazia Mashkoor By: Shazia Mashkoor, Karachiاے میری جان میری لاڈلی سن ذرا
کڑے اس وقت میں دل کو تو کر بڑا
نہ رویا کر میری یاد میں اس قدر
آنکھیں ھو نم تیری اور چہرہ تربتر
تو نہ جانے کس مشکل میں جی رہا تھا میں
زھر جیسے کوئی ھر روز پی رہا تھا میں
سانس میری رکتی تھی، دل میرا کٹتا تھا
دم آکے سینے میں جیسے اٹکتا تھا
درد کی لہریں جب حد سے پار ہو گیئں
زیست کی مشکلیں مجھ پہ بار ہو گیئں
میں نے گھبرا کہ رب سے بس اک دعا مانگی تھی
بدلے حیات کے واسطے اپنے قضا مانگی تھی
ہاں بیچ راہ میں تجھ کو چھوڑ گیا ہوں میں
ناتا زندگی سے ہی توڑ گیا ہوں میں
میرے بغیر اب تجھ کو جینا ہوگا
صبر کا یہ گھونٹ بھی پینا ہوگا
بس میری جان اب یہ آنسو پونچھ لے
ہے تیرے ساتھ خدا بس ہے سوچ لے
درد دیا ہے اس نے تو دوا بھی دے گا
بنا میرے جینے کا حوصلہ بھی دیے گا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






