مرا بچپن مری سوچوں کے آنگن میں مچلتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکمرا بچپن مری سوچوں کے آنگن میں مچلتا ہے
مری آنکھوں سے جب آنسو مرے گالوں پہ گرتا ہے
میں دیوارِ محبت پر اگر تحرہر کچھ کر دوں
مرا دل اس گھڑی بے نام آتش میں سلگتا ہے
میں جب احساس کے جنگل میں رستہ بھول جاتی ہوں
تو بھر احساس دلدل کی طرح مجھ کو نگلتا ہے
یہ دستور زماں کیسے مجھے اب روک پائے گا
مری سوچوں سے ؒؒلاوا جو سر ؐھفل نکلتا ہے
مقدر کیا لکھے گا کاتبِ تقدیر اب وشمہ
وہ کرکے فیصلہ خود فیصلے کو جو بدلتا ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






