مجھے ایسا شاعرِ بےمثال بنا دے یا خدا
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
عشقِ مصطفٰیؐ کی آگ میں سرِعام جلا دے یا خدا
ہو جاؤں امر عشقِ مصطفٰیؐ کا ایسا جام پلا دے یا خدا
عاشقانِ خیرالانام کو نصیب ہو جامِ بقا بروزِ محشر
بعد از مرگ ایسا انجام دکھا دے یا خدا
بھر بھر کر جامِ عشق پلاؤں ِعاشقانِ شہ دوسراؐ کو
بروزِ محشر ایسا کوئی مقدس کام دلا دے یا خدا
شفاعتِ مصطفٰیؐ نصیب ہو غلامانِ مصطفٰیؐ کو
وقتِ بخشش ایسا مقام دکھا دے یا خدا
بجھا سکوں پیاس اپنے من کی روزِ محشر میں
دیدارِ مصطفٰیؐ کا ایسا انتظام کرا دے یا خدا
نسبتِ خیرالورٰیؐ سے ہوں معاف میری خطائیں
بوقتِ حساب ایسا اکرام کرا دے یا خدا
ترے دربار میں ہو قبول حضوری جس طرح
اس طرح مدحتِ حضورؐ زی مقام سکھا دے یا خدا
بعد از خدا بزرگ ہے جہاں میں زاتِ مصطفٰیؐ
اہلِ زماں کو ایسا اسلام سکھا دے یا خدا
بیاں ہو سکے جس سے حقِ شانِ مصطفٰی
کوئی ایسا مقدس کلام سکھا دے یا خدا
قبول ہو جس کا ہر شعر دربارِ مصطفٰیؐ میں
مجھے ایسا شاعرِ بےمثال بنا دے یا خدا
سینئہ حضوری پر سجا ہو گداۓ در مصطفٰیؐ کا تمغہ
بروزِ محشر مجھے یہ مقدس انعام دلا دے یا خدا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






