مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل
Poet: شکیل اعظمی By: z, Hyderabadمجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل
تو بھی ہو جائے گا بدنام مرے ساتھ نہ چل
تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن
میں ہوں اک دھول بھری شام مرے ساتھ نہ چل
اپنی خوشیاں مرے آلام سے منسوب نہ کر
مجھ سے مت مانگ مرا نام مرے ساتھ نہ چل
تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح
دیکھ اے گردش ایام مرے ساتھ نہ چل
میری دیوار کو تو کتنا سنبھالے گا شکیلؔ
ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مرے ساتھ نہ چل
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






