ماں جی
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)آپکے شفیق ھاتھوں کو چومنے کو جی چاھتا ھے
آپکی عظمتوں کو سلام کرنے کو جی چاھتا ھے
آپکی ھستی میں بےلوث جذبہءخدمت دیکھ کر
آپکی قدم بوسی کرنے کو جی چاھتا ھے
آپکی دعاوءں میں قبولیت کا اثر ھوتا ھے
آپکے احترام میں جھک جانے کو جی چاھتا ھے
آپکے قدموں میں جنت کی بشارت دی گئی
آپکی سکوں بھری گود میں سونے کو جی چاھتا ھے
میری بے پرواہ خطاؤں اور گستاخیوں کو معاف کر دینا
اآپکی معاف کرنے کی عادت کو اپنانے کو جی چاھتا ھے
بچپن میں آپ نے اپنی زات کو بھول کر مجھے کیئر دی
آپکو نزرانہءعقیدت پیش کرنے کو جی چاھتا ھے
اتنی بے رخی کے باوجود آپکے ضبط کا بندھن نہ چھوٹا
آپکے دل کے دکھنے پر میرا آنسو بہانے کو جی چاھتا ھے
خداکی رضا آپکی رضا میں ھے
میرا آپکو خوش کرنے کو جی چاھتا ھے
بچے کی نگہداشت میں اپنی پسند کو قربان کر دینا کوئی آپسے سیکھے
آپکے سایہءشفقت میں حسن ھمیشہ رھنے کو جی چاھتا ھے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






