لُٹایا ہے مِہران تھر کھا گئی ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہلُٹایا ہے مِہران، تھر کھا گئی ہے
نہ کھانا تھا ہرگز مگر کھا گئی ہے
یہ فن کھا گئی ہے، ہُنر کھا گئی ہے
حکُومت غرِیبوں کے گھر کھا گئی ہے
مِلی ہے قیادت جو بے کار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
بہایا ہے مزدُور نے وہ پسِینہ
ہُؤا موت سے بھی بُرا اُس کا جِینا
کِسانوں میں رہنے دیا نہ قرِینہ
مُلازِم کا اِس نے ڈبویا سفِینہ
سِسکتا دِکھے ہم کو سنسار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
مُیسّر ہے پانی، نہ ہی گیس آئے
ہر اِک گام پر ہم کو بجلی ستائے
دُہائی ہے، تُف، حیف ہے ہائے ہائے
خُدا حُکمرانوں کو عِبرت بنائے
کُھلے بے حیاؤں کے کِردار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
کبھی سال میں ہی تو لاتے تھے پہلے
پھلوں کی وہ قِیمت بتاتے تھے پہلے
جو سبزی گھروں میں بناتے تھے پہلے
پہُنچ میں نہیں، لے کے آتے تھے پہلے
ہُوئے بے سکت دیکھو سرکار! اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
مُعالِج، مُعلّم، وکِیلوں کو دیکھو
یتِیموں کی آنکھوں میں جِھیلوں کو دیکھو
حکُومت کی جُھوٹی دلِیلوں کو دیکھو
جو ڈھانچے کو نوچے ہیں چِیلوں کو دیکھو
تماشا چلے گا نہ فنکار! اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
ترقّی کے اِس نے تو وعدے کِیئے تھے
دِلاسے بھی سادہ دِلوں کو دِیئے تھے
اُدھیڑے ہیں، جو زخم ہم نے سِیئے تھے
نہ اب جِی رہے ہیں نہ پہلے جِیئے تھے
بنی زِیست تلوار کی دھار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
گِرانی کا آیا ہے طُوفان ایسا
کبھی نا گیا کوئی رمضان ایسا
جگا دل میں پھل کا کُچھ ارمان ایسا
ترستا ہو روٹی کو سُلطان ایسا
مُسلّط ہے گویا کہ خرکار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
وطن کیوں کیا ہے گدھوں کے حوالے
کہاں کھو گئے ہیں، سجِیلے، جیالے
رہے مصلحت کے جو ہونٹوں پہ تالے
تو گویا وطن "وہ" دھویں میں اُڑالے؟
بنو خلقِ بے بس کی للکار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
وطن تیری عظمت رہے گی سلامت
جو نا اہل ہیں میں کرُوں گا ملامت
کہ آنے کو ہے ایسے لوگوں کی شامت
یہ آواز حُبِّ وطن کی علامت
کہ اہلِ وطن ہوں گے بیدار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






