قیامت ہے بہار اب کے برس اپنے گلستاں کی
Poet: Akhtar Muslimi By: Akhtar Muslimi, Azamgarhقیامت ہے بہار اب کے برس اپنے گلستاں کی
گلوں میں کیفیت پیدا ہوئی خارِ بیاباں کی
جو باہم عندلیبانِ چمن دست و گریباں ہیں
تو ایسی کشمکش میں فکر ہے کس کو گلستاں کی
رہا اب اور کیا باقی زوالِ آدمیّت میں
کہ طینت ہوگئی ہے، مائلِ تخریب انساں کی
اگر ہے جذبئہ صادق تو کیا ڈر موجِ طوفاں سے
لگا دے گی کنارے خود ہی کشتی موجِ طوفاں کی
بہاروں میں کرے کوئی ہزار ان کی نگہ بانی
کہاں جاتی ہے دیوانوں سے خو چاکِ گریباں کی
مجھے جب درد ہی میں زندگی کا لطف ملتا ہے
تو پھر اے چارہ گر مجھ کو ضرورت کیا ہے درماں کی
بڑی مشکل سے اُف کم بخت دل کو چین آیا تھا
معاذ اللہ پھر یاد آگئی کس فتنہ ساماں کی
اندھیری رات میں ہے جگنوؤں کی روشنی کافی
غریبوں کی لحد پر کیا ضرورت ہے چراغاں کی
اسے اہلِ نظر کہتے ہیں توہینِ جنوں اخترؔ
کسے شوریدگی میں فکر ہوتی ہے گریباں کی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






