فوجی کی بیوی کا اعزاز
Poet: Gul Naeemuddin By: Gul Naeemuddin, Islamabadمیں وردی نہیں پہنتی ، لیکن میں فوج میں ہوں ، کیوں کہ میں اس کی بیوی ہوں
میں اس عہدے پر ہوں جو دکھائی نہیں دیتا ، میرے کندھوں پر کوئی رینک نہیں
میں سلیوٹ نہیں کرتی ، لیکن فوج کی دنیا میں میرا مسکن ہے
میں احکام کی زنجیر میں نہیں ،لیکن میرا شوہر اس کی اہم کڑی ہے
میں فوجی احکام کا حصہ ہوں ، کیوں کہ میرا شوہر ان کا پابند ہے
میرے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں ، لیکن میری دعائیں میرا سہارا ہیں
میری زندگی اتنی ہی جانگسل ہے ، کیوں کہ میں پیچھے رہتی ہوں
میرا شوہر ، جذبہ حریت سے بھرپور ، بہادر اور قابل فخر ، انسان ہے
تپتے صحرا ہوں ، ریگستان ہوں ، برفیلے میدان یا کھاری سمندر
ملک کی خدمت کے لئے اس کا بلاوہ، کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا
میرا شوہر، قربانی دیتا ہے اپنی جان کی ، میں اور میرے بچے بھی
میں سرحدوں سے دور ، امیدوں کے ہمراہ ، اپنے پر آشوب مستقبل کی
میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے ، جس کی زندگی سپاہیانہ ہے
لیکن میں ، فوج کے عہدوں میں نمایا ں ہوں ، کیوں کہ میں فوجی کی بیوی ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






