غموں کا سمندر ہے سینے میں ساقی

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

غموں کا سمندر ہے سینے میں ساقی
مگر اک تبسم ہے جینے میں ساقی

عجب آگ سی ہے مرے دل کے اندر
مزا آ رہا ہے یہ پینے میں ساقی

نہ باقی رہی کوئی خواہش دلوں میں
سکوں آ گیا سب کو کھونے میں ساقی

کئی خواب ٹوٹے کئی دل ہیں بکھرے
گئی بیت عمریں ہیں چننے میں ساقی

وفاؤں کے بدلے ملا درد ایسا
لگی عمر ساری سنبھلنے میں ساقی

چھپا رکھے ہیں زخم دنیا کی خاطر
مگر درد شامل ہے ہنسنے میں ساقی

کہاں اب وہ خوشبو، کہاں وہ اجالے
مزا کچھ نہیں اس زمانے میں ساقی

یہ دنیا تو آخر سرائے فغاں ہے
بھلا کون خوش ہے جینے میں ساقی

Rate it:
Views: 1
28 Jun, 2026