غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں
Poet: صبا اکبرآبادی By: ہارون, Multanغالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں
تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں
آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے
اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں
آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں
ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں
تم تو بے مثل ہو توحید محبت کی قسم
تم سا کیا ہوگا جہاں میں کوئی مجھ سا بھی نہیں
حشر کی بھیڑ میں ایک ایک کا منہ تکتا ہوں
اس بھری بزم میں اک جاننے والا بھی نہیں
حسن نے دعوت نظارہ ہر اک رنگ سے دی
عشق نے آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں
ایک تم ہو کہ تمناؤں کے دشمن ہی رہے
ایک میں ہوں مجھے احساس تمنا بھی نہیں
جزو دل بن کے سماتی ہے محبت دل میں
یہ وہ کانٹا ہے کہ ہے اور کھٹکتا بھی نہیں
یاد آتی ہے صباؔ بے وطنوں کی کس کو
مجھ کو یاران وطن سے کوئی شکوہ بھی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






