عشق کے سمندر کا کوئی کنارا نہین
Poet: نعمتؔ اداس تہیبو By: Naimat Udaas Thebo, Tando Allahyarعشق کے سمندر کا کوئی کنارا نہیں
کاغذ کی کشتی کو کسی کا سہارا نہیں
اکیلے ہوئے تو خُد سے ہی مسکرانے لگے
پر کیا کرے یے بہی کسی کو گوارا نہیں
مقدر سے رہے شکوے بہت ہمیں
خُد ہیں اپنے اور کوئی بہی ہمارا نہیں
زندگی دیتی رہی ہمیں روز عزیتیں نئی
موت نے یے دیکھ کر بہی ہمکو پکارا نہیں
آسماں پے بہی چمکتے ہیں ستارے اوروں کے لئیے
نعمتؔ اپنی تقدیر کا کو تو کوئی بہی ستارا نہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






