شیشہ و جام و صراحی کی مدارات کے ساتھ
Poet: Khalid Roomi By: KHALID ROOMI, Rawalpindiہے یہ میرا پیارا وطن پاکستان
رہتے ہیں جس میں محنتی انسان
بنایاگیا تھا اسکو دین کا پاسبان
کردیاگیا یہ حوالے شیطان
چلاتے ہیں اس میں ھل کسان
لہراتے ہیں اس کے کھیت و کھلیان
پنجاب، سندھ، سرحد، کشمیر اور بلوچستان
رہے یونہی سب کا جوڑنے میں انکو دھیان
بنانا ہے محنت سے اسکو گلستان
ہونا نہیں آج اور کل پریشان
بولی جاتی ہے اس میں اردو زبان
ہیں سب الفاظ جس کے آشان
گلوں سے رہے یونہی یہ شادمان
لہرائے یونہی ھلالی پرچم ساتھ آن بان
نا کھانا چاہیں دشمن اس کو بنا کر پان
بچانا ہے اسکو ہم نے دے کر اپنی جان
جیسے لی تھی اگلوں نے یہ بات ٹھان
بنے رہیں گئے نہیں ہم حقیقت سے انجان
لینی ہے ہم کو بھی ہاتھ میں قلم و کمان
ہے یہ اپنا گھر اور مکان
بنائیں گئے تاریخ میں اپنے نشان
نا آنے دیئں گئے اپنے اندر تھکان
ہے یہ میرا پیارا وطن پاکستان
رہتے ہیں جس میں محنتی انسان
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






