شہداء کی نذر
Poet: Muhammad Saleem Qadri By: Muhammad Saleem Qadri, Karachiبلدیہ میں ہونیوالے واقعے کی یاد
دولت کی چاہ نے میرے شہر میں اے لوگو
چھین لی جینے کی چاہ ،لوگوں سے اے لوگو
پیٹ کی آگ بجھانے کا جنہیں شوق تھا
ہو گئے سب آتش ہوس کی نذر
کسی کا باپ،کسی کی ماں اوربھائی بہن
صدا دیتے ہیں کہاں ہو آواز دو
چپ سادھ لی ہے ان تھکے وجود نے
قبر کا پیٹ وہ بھرنے کیلئے تیار ہیں
یہ زمیں والے کل تک جن پہ ہنستے تھے
آج سب گریہ ان پہ کرتے ہیں
ایک دو نہیں، درجنوں، سینکڑوں
چڑھ گئے بھینٹ اک سرمایہ دار کے
مجرم پکڑیں گے،کیفر کردار تک پہنچائیں گے
ہم کریں گے ان کی لاشوں پہ سیاست
عوام چند روز میں بھول جائیں گے
مگر وہ لوگ جن کے یہ پیارے تھے
ان کے آنسو تو اب تھم سکتے نہیں
تو نے خود کو میرے لیے مٹا ڈالا کیوں
اے خدا میں نے اتنے ناز سے اسے پالا کیوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






