شب غم چھوڑ کر
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi شب غم چھوڑ کر مجھ کو نہ میرے چارہ گر ! جانا
قیامت ہے مرے نالوں کا ایسے بے اثر جانا
بسان گل خزاؤں میں سر گلشن بکھر جانا
ہے دیوانوں کا آساں کب ترا در چھوڑ کر جانا؟
بہاروں کو تری جادو نگاہی کا اثر جانا
چمن کے ان نظاروں کو ترا حسن نظر جانا
سلامی قیصران وقت کی ہم سے نہیں ہوتی
ہماری شان کے شایاں نہیں شاہوں کے گھر ، جانا
ہماری خاک اڑا کر اس گلی میں ڈال دینا کچھ
دیار یار میں ہو اے صبا ! تیرا اگر جانا
ہمیں ہے یاد اب تک ، کیا سہانا وقت تھا جس میں
تجھے دیکھا ، ترا ہر ایک انداز نظر جانا
تمھاری جستجو میں مارے مارے پھرتے رہنا وہ
تمھاری دید کی خاطر ادھر جانا ، ادھر جانا
متاع شوق دو آنسو ، اثاثہ خستہ حالی ہے
رہ الفت میں آہوں کی لئے زاد سفر جانا
پیئو ساغر خدا کا نام لے کر آج اے زاہد !
یہی انسانیت ہے ، کوئی اچھا کام کر جانا
جنون شوق یا جذبات کی ہے یہ فراوانی
زمانے کا ادھر سے روکنا ، اپنا مگر “ جانا “
اے میری خاک آشفتہ ! تجھے میری وصیت ہے
غبار رو کی صورت ان کے قدموں میں بکھر جانا
نہیں ہے مفتیان شہر کے فتوؤں کا ڈر ہم کو
اے رومی ! قبلہ ء دل ہم نے ان کا سنگ در جانا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






