سوچیں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiسرِ بزم تماشہ بناتی ہیں
محبت کسی سے کراتی ہیں
محبوب کسی کا بناتی ہیں
کبھی خوب ہنساتی ہیں
کبھی آنسوﺅں سے دامن تر کراتی ہیں
سوچےں آوارہ ہوتی ہیں
دو دلوں کہ درمیاں دیواراٹھاتی ہیں
پھر خودہی گرانے کہ اسباب بناتی ہیں
یہ موسموں سے روشناس کراتی ہیں
خزاں ، بہار، بہادوں مناتی ہیں
خوشبوﺅں سے وابسطہ یادیں کراتی ہیں
سوچیں آوارہ ہوتی ہیں
کسی کی سانسوں کا شور سناتی ہیں
سینے میں دل بہت زور سے دھڑکاتی ہیں
وہ تمھیں بہت چاہتاہے
ایسا ابہام جگاتی ہیں
گمشدہ چیزیں لوٹاتی ہیں
سوچیں آوارہ ہوتی ہیں
یہ سوچیں ہی تو ہوتی ہیں
جو جینے کہ گر سکھلاتی ہیں
گرنے لگوں کہیں تو سہارا دلاتی ہیں
برے بھلے سے نمٹنے کا سبق یاد دلاتی ہیں
اپنی آوارگی سے سب کچھ سکھاتی ہیں
سوچیں آوارہ ہوتی ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






