سنو! رب کی پیاری سی اداۓ کن فکاں
Poet: حیا ایشم By: حیا ایشم!, Lahoreآج صبح یونہی ٹہلتے ہوۓ دیکھا
وہ معصوم سی لڑکی
ہزاروں وسوسے لیئے دل میں
چھپے خوابوں کی حیرت میں
خود میں الجھی سلجھی سی
بہت خاموش بیٹھی تھی
جھانکا میں نے اسکی آنکھوں میں
اک ساکت بے یقینی کا صحرا تھا
کبھی نگاہ آسمان پر تکتی
کبھی پرندوں میں جا ٹِکتی
جانے خلاء میں کس کو تکتی تھی
زمین پر کھوجتی تھی کچھ
کبھی انگلیوں کے ناخن میں
کبھی بے جا لکیروں میں
چاۓ کے اڑتے ہیولوں میں
حقیقت کے مرغولوں میں
نجانے سوچتی تھی کچھ
اپنے ہی سوالوں جوابوں میں
لامحالہ خیالوں میں
اندھیروں میں اجالوں میں
بہت تنہا بہت ہی چپ
بہت خاموش سی تھی وہ
اچانک دل یہ چاہا کہ
اسکے قریب جا بیٹھوں
چوم لوں اسکے سب آنسو
انہیں سینے میں سما لوں میں
پھر یخ بستہ اسکے ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں ۔۔ لے لیا میں نے
اس پل اس کے کانوں میں
دھیرے سے یہ کہا میں نے
سنو اے نادان سی لڑکی
اک بات سنو میری ۔،
کبھی لمحہ کوئ بھی کیا یہاں ہمیشہ ٹھہرا ہے؟
کبھی پلکوں پر کوئ آنسو کیا سدا کو ٹھہرا ہے
سنو۔۔! ۔۔ یا تم اسکو بہا ڈالو
یا سینے میں جگہ دے دو۔۔
کہ آنکھوں میں یہ آنسو تو۔۔
تمہیں تماشا بنا دیں گے
اس جھوٹے زمانے کو
ایک بے وجہ وجہ دیں گے
تمہارے جذبوں کو یہاں بھلا کوئ بھی سمجھے گا
مگر ہاں وہ تمہارا رب کہ جس نے سینچا ہےتیرا دل
بنایا ہے تجھ کو ایسا خاص، وہ نازاں ہے تم پر ناں
وہ تو خالص ہے تم سے ناں ، وہی محرم تمہارا ہے۔۔!
دیکھو دل میں میل نہ پھرنا
کہ روح کثیف ہو جاۓ تو
پھر جیا نہیں جاتا
سنو! زمانہ خود غرض نہیں ہوتا،
یہ تو بس وقت کی مرضی ہے
جس میں تمہاری ہی بھلائ ہے
تمہاری تلاش کا مرکز
جو رہا ہے صدیوں سے
وہی تو ساتھ تمہارے ہے
تمہارے دل میں دھڑکتا ہے
تو کہو کیا تنہا کبھی ہو تم؟
ابھی ان وسوسوں، حیرت اور
اس دکھ کی دنیا سے نکلو تم
جب تم یقین بنو گی ناں ۔۔
تب یقین تم تک بھی پہنچے گا
کچھ بھی بے وجہ نہیں یہاں
کچھ بے مطلب نہیں سچ میں
تمہارا ایسے ٹوٹ جانا بھی
دیکھو کہاں مخفی رہا اس سے
گر میں ساتھ تمہارے ہوں ۔۔ تو ۔۔
کیا وہ رب نہیں ہو گا؟
جس نے تمہیں بنایا محبت سے
بہت چاہت سے رغبت سے
تو اپنی خواہش کے ہاتھوں کیوں کفر اسکا کرتی ہو
اسکا شکر کرو بس تم
پھر تم اسکی رضا دیکھو
رضا میں اسکی پوشیدہ اک دلکش عطا دیکھو
جن آنکھوں میں آنسو ہیں ، یہ اذیت بے یقینی ہے
انہی آنکھوں میں ایک دن میرا پیارا سا وہ رب
تم دیکھنا ۔۔ قوسِ قزح اتارے گا
تمہارے سب خواب سجاۓ گا
یہ وعدہ میرا تم سے ہے
میرے رب نے چاہا تو
میرا رب اسکو نبھاۓ گا
تم اپنی سرشت میں بس
اس سے سدا خالص ہی رہنا
خودکو سبھی شکوے سوالوں سے سدا بے پرواہ سا ہی رکھنا
مجھے یقین ہے میرا رب کرے گا سرخرو تم کو
تو جس پل تم کو اس پریقین آۓ گا
کیا اسی دن سر جھکاؤ گی؟
کیوں ناں آج اسی پل ہم ایک سجدہء شکر بجا لائیں
کہ اس نے سوچ دی اپنی ۔۔ کہ اس نے آس دی اپنی
کہو کیا یہ کافی نہیں ہے کیا ؟؟
کہ وہ ساتھ اپنے ہے۔۔!
کہ تمہارے دکھوں کے پردے میں جھلکتا اسکا مرہم ہے
یہی کہا تھا میں نے ناں ۔۔ وہی ہمارا سچا محرم ہے
سنو اے معصوم سی لڑکی ۔۔
اپنی ہی خواہش کے جالوں میں
کبھی نہ اسکو برا کہنا۔۔!
تم پیاری سی رب کی اداۓ کن فکاں ہو ناں
تو رب کو ناز ہو تم پر۔۔ بس ایسی ادا رکھنا۔۔
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






