ستاروں سے پوچھئے
Poet: purki By: m.hassan, karachiاپنی قسمت کا حال
ہم سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
امن و امان کی حالت
ہم سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
ڈاروں حملوں کا جواز
امریکہ سے نہ پوچھئے
بے سہارا ہونے والے
خاندانوں سے پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
میرے وطن کے لوگ
ہورہے ہیں بےگناہ مدفون
اگر ہم میں کچھ دم خم ہیں
تو امریکا سے پوچھئے
اسلام کے ٨٠ فرقے کیوں
مُلّاؤں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
مسلم کی بے بسی کا ذمّہ دار کون
عالم اسلام کے ٹھیکہ داروں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
اس دیس کو جہنم کس نے بنا دیا
سماج کے ٹھیکہ داروں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
عوام کو غربت میں کس نے دھکیلا
این آر او زدہ جمہوریت سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
سڑکوں پر کشت و خون کون کروا رہا ہے
حکومت میں شامل جماعتوں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
یہاں روز کسی نہ کسی بے گناہ کا جناذہ اٹھتا ہے
قانون کے رکھوالوں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
ہر چوراہے پر کچرے کا ڈھیر ہے
متعلقہ محکموں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
نلکوں میں پانی کی جگہ سوں سوں کی صدا ہے
واٹر بورڈ والوں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
پانی چوری اور بجلی چوری برابر جاری ہے
ان چوروں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
چوروں کا بل بھی ہم بھرے اور تفتیش بھی ہم سے ہو
چوروں کے سرپرستوں سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
کب پانی بجلی ہمیں ملے گی اور کب یہاں انصاف ہوگا
تحریک انصاف آئے تو اُن سے بھی نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
عدل کا بڑا چرچا ہےعزّت مآب افتخار کا
ہمیں کب ملیں گے انصاف ان سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سوموٹو نوٹس لینا
امن و امان اور مارا ماری کی سنگینی کا ان سے نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
کوئی بھی کل سیدھی نہیں یہاں آجکل مگر انکو کچھ نظر آتا نہیں
پُرکی اگر تمہیں کچھ معلوم ہے بتاؤ ورنہ ان سے بھی نہ پوچھئے
بلکہ ستاروں سے پوچھئے
یہ تمام مسائل انکے نہیں ہم جیسے غریبوں کے ہے
تم ان سے نہ پوچھئےخود سے پوچھئے
یا ستاروں سے پوچھئے
انہیں قارون بننا ہے فاروق تو نہیں بننا
انہیں نمرود بنتا ہے ابراہیم تو نہیں بننا
انہیں فرعون بننا ہے موسٰی تو نہیں بننا
تو ان سے انکا کردار نہ پوچھئے
ستاروں سے پوچھئے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






