سب کچھ پا کر بھی کھو دیا میں نے
Poet: Sobia waqar By: Sobia waqar, Lahoreسب کچھ پا کے بھی کھو دیا میں نے
کیا پایا اور کیا کھو دیا میں نے
وہ جو کہتا تھا سب قربان کرکے تمہیں پایا ہے میں نے
چھین کر میرا سب , میرے ہی حال پر چھوڑ دیا اس نے
وہ جو کہتا تھا پیار ہے تم سے بے پناہ
کر کے اعتبار اس پر اپنے آپ کو کھو دیا میں نے
جب نہ کرتی تھی محبت و اعتبار اس پر
کھا کر جھوٹی قسمیں ,مجھ کو مجھ سے بد گمان کر دیا اس نے
تھا ہاتھ میری بربادی میں کچھ میرے اپنوں کا بھی
اپنے ہی آستین کے سانپوں سے زندگی کو ڈھسوایا میں نے
دیکھتی رہی کھلی آنکھوں سے سب گناہ اس کے
پھر بھی اندھا اعتبار کیا اس کی بے وفائی پر میں نے
سمبھال رکھا ہے میرے رب نے اب تک مجھے
ورنہ کیا تباہ خود کو , اپنے ہی ہاتھوں سے میں نے
اب کیوں سوچوں
سب کچھ پا کے بھی کھو دیا میں نے
کیا پایا اور کیا کھو دیا میں نے۔۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






