سب سے چھپ کے خود سے ملاقات کرتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreسب سے چھپ کے خود سے ملاقات کرتے ہیں
ہم شاعری نہیں بس اپنی بات کرتے ہے
آنکھوں میں اپنا عکس آئینے میں اپنا سراپا
خود کو تکتے تکتے دن سے رات کرتے ہیں
خود سے خطاب کرتے ہیں ہم خود کلام کرتے ہیں
ہم تو سو سو باتوں میں بھی اپنی بات کرتے ہیں
کسی اور سے کیا مطلب مجھے کسی سے کیا کہنا
اپنے ساتھ کرتے ہیں ہم جو بھی بات کرتے ہیں
میں خاموش رہوں لیکن خاموش نہیں رہنے دیتے
مجھ سے میری باتیں یہ گل پات کرتے ہیں
کیسے اپنا بچپن بیتا کیسے جوبن گزر گیا
یہ تخمینہ ہم اکثر اوقات کرتے ہیں
اپنے آپ کو خود ہی توڑا جوڑا کرتے ہیں
یوں اپنی بے ترتیب مکمل ذات کرتے ہیں
بزم دنیا میں تو اکثر ہنستے بستے رہتے ہیں
اور تنہائی میں اشکوں کی برسات کرتے ہیں
عظمٰی ہاتھ اٹھائے نظر جھکائے دامن پھیلائے
اپنے رب سے کیا کیا مناجات کرتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







