سانحہ پشاور ١٦، دسمبر٢٠١٤
Poet: UA By: UA, Lahoreدلگیر دلخراش دلدوز سانحہ
معصوم چہروں کو لہو رلا گیا
میرے دیس کے چاند ستارے
امیدوں کے روشن چراغ
ظالم بھیڑیوں نے گل کئے بے انتہا
درخشاں مستقبل کی امید کا گلشن
بربریت کی آگ میں جلا دیا
سفاکیت نے خون کا دریا بہا دیا
دلگیر دلخراش دلدوز سانحہ
معصوم چہروں کو لہو رلا گیا
والدین کی آنکھوں کے نور کی حفاظت فرما
ماں کی گود نہ اجڑے نہ ٹوٹے باپ کا حوصلہ
یا الٰہی ایسے صدموں سے ہمیں بچا
ایا الٰہی ایسے صدمے اور نہیں دکھا
دلگیر دلخراش دلدوز سانحہ
معصوم چہروں کو لہو رلا گیا
یا الٰہی رحم فرما کرم فرما مدد فرما
وحشت بربریت سفاکیت کا نام و نشاں مٹا
ملک و ملت دنیا کو دہشت سے نجات دلا
انسانیت کو امن کی اب تو راہ دکھا
حیوان نما انسانوں کو صفحہء ہستی سے مٹا
اب نہیں سہا جاتا پے در پے صدمہ
سن لے التجاء الٰہی سن لے التجاء
یا الٰہی رحم فرما کرم فرما مدد فرما
دلگیر دلخراش دلدوز سانحہ
معصوم چہروں کو لہو رلا گیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






