سانحہ بلدیہ
Poet: abad ali By: abad ali, karachiآج نہ تھم سکے آنسو میرے
دل اداس ہوگیا
ایسا المناک سانحہ
کیسی قیامت برپا کرگیا
اجڑ گئیں گودیں، سیکڑوں ماؤں کی
کئیں سہاگنیں بے سہاگ ہوگیں
بچے یتیم ہوگئے
بہنیں اشکبار ہوگئیں
فضاء ایسی سوگوار ہوئی
ہر آنکھ نم ہوئی
یہ سسکیاں یہ آہیں
ہلا رہی ہیں درودیوار
کئی جنازے اٹھ گئے
دفن ہوئے ساتھ اہل وعیال
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






