زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
Poet: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiزندہ ہے بھٹو زندہ ہے ،پائندہ ہے ،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
کبھی کسی نے مڑ کر نہ دیکھا، کہاں گرا کوئی بدنصیب
ایک تھے بھٹو جنہوں نے دیکھا، بلکتا، سسکتا مزدور غریب
جینے کا سہارا کچھ پایا، ہوگئے جب ہم انکے قریب
غریب و مزدور کو گلے لگا کر بولے سن لو میرے حبیب
جو اس دم رہبر ہے تیرا ،تیرے گھر کا باشندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے،پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
ہر نفس وطن کا ہے میرا وجود،اپنی راہ رخ سمت صعود
اعلیٰ ادنیٰ سب شانہ بشانہ، نہ کوئی ایاز نہ محمود
میں ہوں بھٹو میرا وعدہ جہد و جدت تا حد و جود
سچی محنت،سچی لگن ہو،نہ چاہئے جھوٹا نام و نمود
ہر دم میری آنکھوں میں، مسکان تمہارا رقصندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
خیر خدا کی مرضی تھی،یا دنیا کی خود غرضی تھی
وہ عہد مکمل کر نہ سکے،نہ جانے کس کی مرضی تھی
بعد میں چل کر بھید کھلا، وہ ظالم عدالت کی مرضی تھی
پھانسی کے تخت پے آکر بھی، معصوم کی بس یہ مرضی تھی
مایوس نہ ہو ائے ہم وطنو! کچھ آس ابھی آئندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
وہ آس شہید بے نظیر بنی، دنیا کے لئے مہابیر بنی
چوک نہ تھی نشانے مین، وہ ایسی کمان کی تیر بنی
ہر صوبے کو باندھ لیا، کیا خوب عجب زنجیر بنی
جب وقت شہادت آپہنچا،ہائے کیسی نحس تدبیر بنی
نہ رہیں اگرچہ دنیا مین، پر نام انکا رخشندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
بھٹو اپنے تھے ذوالفقار، بے نظیر بنی تھیں انکی دھار
ہر سو جلوہ چھایا تھا،تھی آئی پھولوں پے نکھار
نہ آسکا رونق دوبارہ،آئی گئی جانے کتنی سرکار
اب بھی ہم مایوس نہیں، مل جائے روٹی،کپڑا و گھربار
زرداری کی کوشش ہے، مقصد کا خدا دہندہ ہے
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پائندہ ہے،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
5 ویں برسی پر خراج عقیدت
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






