زمانے بھر اب کوئی ہمیں اپنا نہیں لگتا
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriزمانے بھر میں اب کوئی ہمیں اپنا نہیں لگتا
یہاں سب لوگ اچھے ہیں کوئی خود سا نہیں لگتا
اب اس کے واسطے یکسر خودی کو مار ڈالیں کیا
وہ ہم کو اچھا لگتا ہے مگر اتنا نہیں لگتا
نہ آنکھوں میں ہیں حلقے اور نہ رنگت اڑی سی ہے
وہ کہتا ہے کہ تنہا ہے مگر تنہا نہیں لگتا
میں تم سے پیار کرتی ہوں یہ جملہ سننا چاہا تھا
کہا اس نے کہ یوں کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
ہیں دیکھیں مشکلیں اتنی کہ اب تو جو بھی ہو جائے
ذرا دھڑکا نہیں لگتا ذرا کھٹکا نہیں لگتا
کبھی لگتا ہے دشمن ہے کبھی محبوب لگتا ہے
اے دل اب بس بھی کردے وہ تجھے کیا کیا نہیں لگتا
کہا ہم نے محبت کے بنا سب کچھ ادھورا ہے
کہا اس نے کہ ہوگا پر ہمیں ایسا نہیں لگتا
ذرا اس دل کی حالت دیکھنا کہ اس دیوانے کو
سوا اک بے وفا کے کوئی بھی پیارا نہیں لگتا
اب آخر شانؔ تیرے دل کا کیا ہوگا کہ بیچارہ
تجھے تیرا نہیں لگتا اسے اس کا نہیں لگتا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






