رکھ کر تُو درمیان سے کافر کو چیر دے

Poet: عامر ثقلین By: Amir Saqlain , Arifwala

رکھ کر تُو درمیان سے کافر کو چیر دے
جو سانس باقی اب بھی ہو تو دل پہ تیر دے

اے دوست میرے فکر نہ تو کر رقیب کی
مجنوں کو لیلیٰ اس کی دے رانجھے کو ہیردے

ہم سے جو چھین لے جو ملا دین ہے ہمیں
رہبر نہ ہم کو ایسا دے ایسا نہ پیر دے

ڈوبا رہے جو دنیا کی موجِ گناہ میں
بد جسم مجھ سا نہ دے نہ مجھ سا ضمیر دے

الجھا میرا یہ دل بھی ہے الجھی ہے سوچ بھی
رہبر مجھے تو اچھّا دے اچھّا فقیر دے

عامر خدا کی مرضی جو چاہے سو وہ کرے
اقبال دے کسی کو وہ غالب یا میر دے

Rate it:
Views: 319
05 Apr, 2022
More General Poetry