رب سے حُرمل کے تیر نے پوچھا
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonروح سے یہ شریر نے پوچھا
تجھ سے کیا کیا ضمیر نے پوچھا
ایسا ممکن ہے رُخ بدل جائے
رب سے حُرمل کے تیر نے پوچھا
اس حقارت بھری نظر کے عِوض
کیا دعا دوں؟ فقیر نے پوچھا
میرا رانجھا تو خیریت سے ہے ؟
مرتے مرتے بھی ہیر نے پوچھا
آپ کتنے میں دیں گےایک غزل ؟
متشاعر امیر ، نے پوچھا
بہرِ اولاد دو گی ” قربانی ” ؟
سہمی لڑکی سے پِیر نے پوچھا
کیا مشاغل رہے غزل کے سوا
مجھ سے منکر نکیر نے پوچھا
قیمت عدل مجھ کو بتلائیں
منصفوں سے وزیر نے پوچھا
میرے قاتل کا حال کیسا ہے
جاتے جاتے امیرعلیہ السلام نے پوچھا
جانتے ہو کہ فاطمہ سلام اللہ علیہ کیا ہے ؟
شاہ خیر کثیرﷺنے پوچھا
مجھ سے جمہور کیوں نہیں واقف
واقعہ ء غدیر نے پوچھا
کیوں جنوں پر جنون طاری ہے
خود خرد کے اسیر نے پوچھا
چاند بھی کیا کوئی چپاتی ہے ؟
ایک بھوکے فقیر نے پوچھا
کیا مجھے پِیٹنے سے پاؤ گے
اے فقیرو . لکیر نے پوچھا
کیا ضرورت ہے رات کو مفتی
ہنس کے ، ماہ منیر نے پوچھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






