دینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreدینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
مجھے ہی دے دو ،دینا تو ہے تم کو اک دن کسی کو اسے
نہ جان نہ پہچان، کیا پتہ تم ہو بے ایمان کیسے تمھیں دے دوں اسے
دل تو یونہی دیے جاتے ہیں، کون چوٹ لگاگیا ،بعد میں پتہ چلتا ہے اسے
کیا لڑکیوں کی طرح کر رہے ہو باتیں ،نازک بڑا ہے چوٹ نہ لگانا اسے
بڑے نخرے اٹھائے ہیں اس کے بڑے نازوں سے پالا ہے میں نے اسے
ٹوٹنا تو مقدرہے اس کا ، غیر نہ سہی کوئی اپنا چکنا چور کر جائے گا اسے
قریبی رشتہ دار کی چو ٹ تو سہ جاتا ہے ، بس محبت کا روگ مار دیتا ہے اسے
کسی کو دینا ہی نہی ہے میں نے ،بس اپنے ہی پاس رکھنا ہے اسے
میں بڑے پیار سے سنبھال کر رکھوں گی اسے ،مجھے ہی دے دو اسے
تم کیا سنبھال کے رکھو گی ، ہمیشہ سے نہ بھرنے والا زخم محبوب ہی دے جاتا ہے اسے
مجھ جیسا ملے گا نہی سوچ لو ، پھر نہ پچھتانا ، کسی کا تو ہو ہی جانا ہے اسے
زیادہ عرصے پاس تمھارے رہے گا نہی ،چوٹ کھانے میں مزہ آتا ہے اسے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے






