دُکھوں میں زیست بسر ہو رہی ہے
Poet: Mian Amar By: Mian Amar, Muzafar Garhدُکھوں میں زیست بسر ہو رہی ہے
روتے روتے آغوش تر ہو رہی ہے
نامِ یار کو بنایا ہے وردِ زباں
اِس لئے ہر سانس مُعطر ہو رہی ہے
خونِ جگر سے کرنی پڑے گی سیراب
میرے دل کی زمیں بنجر ہو رہی ہے
کون ہے اپنا اور کون ہے بیگانہ
دھیرے دھیرے یہ خبر ہو رہی ہے
شبِ فراق میں بہت بہا لیے آنسو
اب اُٹھو میاں امر سحر ہو رہی ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






