ديكھ بابل تيرے آنگن كی چڑياں اكيلی روتی ہيں
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreبابل تيرے آنگن ميں معصوم سی چڑياں رہتی تھيں
جنھيں وقت كے پروں نے ايک ايک كر كے اڑايا تھا
بہت سنبھال كر ، چھپا كر تو نے ہم كو پالا تھا
زمانے كا كوئی شكاری ہمارے پاس نہ آنے پايا تھا
ماں باپ كے پاس ہم پريوں كی جيسی تھيں
انھوں نے اپنے خون پسينے سے ہم كو كھلايا تھا
پيار كا ہميں جہاں ملے خوشيوں كی بہار ملے
ايک ايک كر كے بابل تو نے ڈولی ميں بٹھايا تھا
تكليف ميں دونوں ہمارے لئے تڑپتے تھے
كسی بھی كمی كا احساس ہميں نہ دلايا تھا
كبھی آپ دونوں كی ياد نہ آئے يہی چاہا تھا
تيری بانہوں كے جھولے ميں اپنا بچپن بتايا تھا
ماں تو نے خود كو مٹا كر ہم كو بنايا تھا
اپنے ہاتھوں سے اپنا آشيانہ سجايا تھا
)مگر ديكھ بابل آج تيرے آنگن كی چڑياں.. اپنے اپنے دكھوں ميں اكيلی روتی ہيں.. دكھ تكليف ميں روتی ہيں تو كوئی ان كے ساتھ نہيں روتا.. وہ اكيلی ہی تكليفوں ميں خود سے لڑتی ہيں..
كوئی نہيں بابل جو ہمارے آنسو پونچھ لے آ كر... ماں رونے كو تيری گود چاہئے ہميں.. بابل رونے كو تيرا كندھا ، سر پر تيرا ہاتھ چاہئيے ہميں..ديكھ بابل تيرے آنگن كی چڑياں اكيلی روتی ہيں..
بہت اكيلی ہوتی ہيں..( ;
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






