دردِ نا رسائی
Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAکشتگانِ عشق کے چمن کے
دو شاخ سے بچھڑے ہوئے پھول ہیں
اور انتظار کے موسموں کے ہیں اسیر
یوں تو آج بھی میری دھڑکنوں میں
خوابِ شکستہ کا ارتعاش ہے
یوں تو آج بھی میری سانسوں میں
بار کسی نغمہء گم گشتہ کی یاد کا ہے
یوں تو آج محشر ہی کا سماں ہے
دیکھو قیامت برپا کہاں کہاں ہے
کس امتحاں میں ڈال کے ہمسفر گیا
اِک اور برس عمر کا تجھ بن گذر گیا
سنہرے سپنوں کی تعبیر
تیرے میرے بیچ ایک لکیر
حُسن تو زندگی سے جدا ہونا ہی تھا
بچھڑ کے عشق سے فنا ہونا ہی تھا
پر اب بھی ہیں سب زمانے تیرے
ہاں یہ نظمیں میری ترانے میرے
تیری جدائی کے نوحے ہیں
تجھ سے بچھڑنے کے مرثیے ہیں
ٹوٹے خوابوں کے ماتم میں
میں نے لکھے ہیں
دنوں بعد چند شبنمی موتی
خارِ مژگاں پہ پروئے ہیں
آج بھی لفظ میرے روئے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






