درد میرا پیا
Poet: By: Sumera Ataria, GUDDUدرد میرا پیا
درد بیل آنگن میں چڑھنے لگی
سب دریچوں سب ستونوں پر قبضہ کیئے
درد بیل بڑھنے لگی
درد ٹھنی نھیں
درد پتا نھیں
درد جڑ نھیں
درد گل بھی نھیں
درد گل بھی نھیں
جو مھک جائے گا
آندھیاں جب چلیں تو بکھر جائے گا
یا سمٹ جائے گا
درد دریا بھی نھیں ناگواری میں رخ ھی بدل جائے گا
یا وھیں پڑا سوکھتا جائے گا
درد ساون نھیں کے برس جائے گا
اک جلن سب کی آنکھوں میں رکھ جائے گا
درد بچہ نھیں کے ذرا سا ڈراؤ تو ڈر جائے گا
اک چٹکی بجاؤ تو بھل جائے گا
درد تاریک راھوں کا راھی نھیں
کے بھٹک جائے گا
یا کسی حسن اپسرا میں بیھک جائے گا
درد کوئی نھیں
صرف غم کی دوا
درد کچھ بھی نھیں
صرف غم کا دیا
درد بھجتی ھوئی آنکھ کی روشنی
درد زندگی صرف آگھی
درد دردوں میں
جینے کا آسرا
درد مر کے جیا
درد جی کے مرا
درد روشن دیا
اک روشن دیا
درد میرا پیا
درد میرا پیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






