خوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گی
Poet: عبیر By: عبیر, Bahawalpurخوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گی
سورج نہ دیکھ آنکھ کی بینائی جائے گی
یا رب کوئی فرشتہ جسے دوست کہہ سکوں
انسان کی تلاش میں بینائی جائے گی
دو چار جھوٹ بول کے آئی بلا کو ٹال
سچ بولنے کے جرم میں گویائی جائے گی
نسلی رقابتوں میں گئے اپنے بام و در
اب آپسی نفاق میں انگنائی جائے گی
زخموں سے ہے جمیلؔ مذاق سخن میں جاں
یہ بھر گئے تو پھر سخن آرائی جائے گی
More Sad Poetry






