خلاؤں میں معلق زندگی محسوس ہوتی ہے
Poet: Muhammad Nawaz By: uzma ahmad, Lahoreخلاؤں میں معلق زندگی محسوس ہوتی ہے
مجھے ہر موڑ پہ تیری کمی محسوس ہوتی ہے
اجل سے کیا ڈراتے ہو شناسائی کی باتیں ہیں
مجھے یہ ہجر کی پہلی گھڑی محسوس ہوتی ہے
میں اکثر جان جاتا ہوں تمہاری ان کہی باتیں
تیری پلکوں پہ تھوڑی سی نمی محسوس ہوتی ہے
گلوں سے تتلیوں سے رنگ سے خوشبو سے شبنم سے
شکایت بے رخی کی دائمی محسوس ہوتی ہے
میری جاں جب بھی آتی ہو تبسم خیز لمحوں میں
یہ دھڑکن دل کی تیری چاپ سی محسوس ہوتی ہے
وہی خوش فہمیاں قائم ہیں میری آپ کی بابت
ابھی تک بے وفائی بے رخی محسوس ہوتی ہے
لئے پِھرتے ہو مٹھی میں میرے خوابوں کی تعبیریں
ستاروں س پرانی دوستی محسوس ہوتی ہے
وہی فرمان ہے تیرا، کہا جب مدعا دِل کا
تمہاری گفتگو اِک شاعری محسوس ہوتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






