جدا رہنے کی سزا دیتا ہے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanجب بھی تمہیں یاد کروں پلکیں بھیگ جاتی ہیں
تیرا بچھڑنا ناسور بن کر دل کو زخم دیتا ہے
آخر جھوٹی نکلیں وہ قسمیں بے وفا نکلا تُو بھی
تجھ سے بڑھ کر تجھے چاہا پھر بھی تُو فریب دیتا ہے
زمانے سے بیگانہ ہوا سکون میں تھا اب بے قرار ہوں
سانسوں میں بسایا تجھے مہکے پھولوں کی چاشنی کی طرح
مسکرانا سکھایا خوشگوار سپنے بُنے تیرے لئے
کیسے ایک لمحے میں چھوڑ دیا کیا خاص اہمیت دیتا ہے
پہلی ملاقات میں درد دل بڑھا کر مسکراتا تھا
میری خوشی کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتا تھا
میرے پیار بھرے خط پڑھ کر مہک سا جاتا تھا
بدلا ہے کیسے ظالم انجانے زخمِ جدائی دیتا ہے
میرے چہرے کو مہتاب ہونٹوں کو چھلکتا جام کہتا تھا
میری دید کواپنی آنکھوں کی آرزو دل کا قرار کہتا تھا
چاہت کے باوجود انجانے پن کو اپنی مجبوری کہتا تھا
پیار تھا درمیان پھر کیوں جدا رہنے کی سزا دیتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






