جانا تمہاری انا نےتمھیں میرے دل و روح کا قاتل بنایا ہے
Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,جانا تمہاری انا نےتمھیں میرے دل و روح کا قاتل بنایا ہے
ذرہ دیکھ تو سہی تو نے کچھ بھی تو نہیں پایا ہے
تم نے خود اپنے ہاتھوں ہی اپناخوبصورت گھروندا جلایا ہے
تم نے صبر کو چھوڑ کے صرف گناہ کمایا ہے
کس کام کی تری عبادتیں جب تُجھے کوئی خیال نہیں توبہ کا
تم نے اپنے وجود کو گناہوں کی دلدل میں خود ڈبویا ہے
مانتا ہوں کہ کچھ غلطی میری بھی تھی اس حادثے میں
مگر تم نے تو خدا کی بیاں کردہ تمام حدوں کو گرایا ہے
کہتے ہیں بزرگ لوگ رہتا ہے خدا انسان کے دلوں میں
تم نے تو اپنے پورا ترکش اسی پہ آزمایا ہے
آہ کہ کسی دن ہو تجھے اپنی خطاؤں کا احساس
اور تُو دیکھے ترے ارد گِرد گِدھوں نے گھیرا بنایا ہے
کسی کے جانے سے سفر نہیں رکتا وقت نے مجھے یہی سمجھایا ہے
لگتا ہے اب فی الحال شاید تمہیں خدا حافظ کہنے کا سمے آیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






