تیرا کھو کر نشاں نہیں ڈھونڈا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالتیرا کھو کر نشاں نہیں ڈھونڈا
ہاں مری جانِ جاں نہیں ڈھونڈا
تجھ کو ہر آن رائیگاں کہہ کر
اپنا سُود و زیاں نہیں ڈھونڈا
میں نے ہر سُو خدا تلاش کیا
اک فقط درمیاں نہیں ڈھونڈا
دشت و گلشن میں اُس کو ڈھونڈا بہت
وہ جہاں تھا وہاں نہیں ڈھونڈا
اپنے ہوش و حواس کو کھو کر
دو جہاں میں کہاں نہیں ڈھونڈا
مجھ کو آوارگی سے شکوہ نہیں
چاہتے بھی مکاں نہیں ڈھونڈا
تم نے بھی اپنے ہاں نہ ڈھونڈا مجھے
میں نے بھی اپنے ہاں نہیں ڈھونڈا
نہ بھٹکتا تو اور کیا کرتا
گم شدہ کارواں نہیں ڈھونڈا
مجھے جس نے امان میں رکّھا
کبھی وہ بے اماں نہیں ڈھونڈا
جانِ جاں مجھ سے بدگماں کے سِوا
کیوں کوئی خُوش گماں نہیں ڈھونڈا
کب سے ترسی رہی جبینِ نیاز
پر ترا آستاں نہیں ڈھونڈا
کڑتے کڑتے ہی مر گیا لیکن
دوسرا مہرباں نہیں ڈھونڈا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






