تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ ( رومانوی گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid sheikh, Lahore,Pakistanتو راحت جاں بن کے مرے پاس جو آیا
تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ
خاموش نگا ہوں سے ملیں مجھ کو صدائیں
کچھ سادہ مگر شوخ بھی ہیں تیری ادائیں
میں جب ہوا غمگین مجھے آ کے ہنسایا
تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ
تو راحت جاں بن کے مرے پاس جو آیا
تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ
زلفوں کی یہ کالی سی گھٹا میرے لیے ہے
ان گالوں پہ یہ رنگ حیا میرے لیے ہے
اے جان وفا پیار میں کیا کیا نہیں پایا
تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ
تو راحت جاں بن کے مرے پاس جو آیا
تپتے ہوئے صحرا میں ملا ابر کا سایہ
گیت کا منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سردیوں کی چمکیلی دھوپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خوبصورت پارک جس میں فواروں
سے پانی اچھل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبوب اپنی محبوبہ (جو اس سے شدید محبت کرتی ہے اور اسے کبھی
اداس نہیں دیکھ سکتی) کو یہ محبت بھرا گیت سنا رہا ہے جو گیت سنتے ہوئے اک ادائے دلربائی لیے
مسکرا بھی رہی ہے اور کچھ شرما بھی رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






