تمہاری خوشبو
Poet: Abdul Waheed By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurمسکان تمہارے کالج میں
ہر سمت تمہاری خوشبو ہے
وہی رونق ہے
وہی عالم ہے
وہی میلہ ہے
وہی موسم ہے
وہی صندل ہے
وہی کاجل ہے
وہی آنچل ہے
وہی گیسو ہے
مسکان تمہارے کالج میں
ہر سمت تمہاری خؤشبو ہے
وہی موجِِ ادا
وہی رنگِِ حناء
وہی سادہ قباہ
وہی چالِ صباہ
رمِِ آہو ہے
وہی جادو ہے
مسکان تمہارے کالج میں
ہر سمت تمہاری خوشبو ہے
ہر چہرہ نقش تمہارا ہے
ہر لہجے میں تم بولتی ہو
ہر پیکر عکس تمہاری ہے
تم کانوں میں رس گولتی ہو
آواز تمہاری خوشبو ہے
یہ خوشبو کیسا جادو ہے
مسکان تمہارے کالج میں
ہر سمت تمہاری خوشبو ہے
ماحول وہی،تہذیب وہی
تنظیم وہی، ترتیب وہی
اُستاد وہی،آداب وہی
آنکہیں بھی وہی، خواب بھی وہی
کوئی دل کش ہے
کوئی دل جو ہے
مسکان تمہارے کالج میں
ہر سمت تمہاری خوشبو ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






