تم ہی کہو کہ زیست کو زر دار کر دیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادعوٰی کرے نہ عشق کو بیدار کر دیا
اک برگِ گل جو لائے ہے دیدار کر دیا
یہ زندگی اٹھا کے اڑوں آسمان تک
ہمت کی داستان کو شہوار کر دیا
دیکھے ہیں کتنے آدمی راہِ حیات میں
اب زندگی کے ساتھ کو گفتار کر دیا
بے چہرہ زندگی ترے خوابوں کے درمیاں
مشہور ہو گئی ہے طلبگار کر دیا
رکھیے تو دوستانہ مراسم بھی کس طرح
جب بھی ملے ہیں دونوں کو لاچار کر دیا --
تنہائیاں رفیق رہی ہیں تمام عمر
تم ہی کہو کہ زیست کو زر دار کر دیا
جب اُس نے میرے درد کو سمجھا نہیں کبھی
پھر پیار کی بھی مانگ سے انکار کر دیا
مرتے تھے جب فراق میں وہ دن نہیں رہے
یادوں کا اک ہجوم کو دشوار کر دیا
اس کو ہے کیا پتا کہ خزائیں بھی ہیں امر
آیا ہے ملنے آج جو بیمار کر دیا
ٹوٹے تو ٹوٹ جائے یہ بھی پیار کا محل
شیشے کے جیسا مجھ کو تو ہموار کر دیا
سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکام ہو گیا ہے وہ پر خوار کر دیا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






