تم اپنے دل سے مٹا ڈالو اب نشاں میرا
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanستم شعار ہوا مجھ پہ مہرباں میرا
کیوں ڈھل گیا کسی صحرا میں گلستاں میرا
میں موسموں سے سہم کر بتا کہاں جاؤں
کہ آندھیوں نے گرا ڈالا آشیاں میرا
میں نیند میں ہی رہا صبح کے اجالے تلک
روانہ ہو گیا شب میں ہی کارواں میرا
میں عمر بھر کے لیے کیسے تم کو اپناؤں
تمھارے رہنے کے قابل نہیں مکاں میرا
میں خود سے بھی ہوں بہت دور تم سےکیسے ملوں
تم اپنے دل سے مٹا ڈالو اب نشاں میرا
پروں کو کاٹا و آزاد کر دیا مجھ کو
ہے کس قدر مرا صیاد مہرباں میرا
نہ پوچھ میں نے کبھی دل پہ چوٹ کھائی ہے
غزل میں ہو تو چکا حال دل بیاں میرا
زباں پہ رہتی ہے دشنام گرچہ میرے لیے
عزیز پھر بھی ہے مجھ کو وہ بدزباں میرا
کیا منتظر ہی رہوں تیری التفات ہو کب
ہوا نہیں ہے ابھی پیار کیا عیاں میرا
وہی تو ہے مری رسوائی کا سبب زاہد
جو کل تلک تھا مرا دوست , رازداں میرا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






