بہارزرد کا موسم
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانیہ موسم کہ اس موسم میں
میرا دن کٹ ہی جاتا ہے
اس دنیا کے جھمیلوں میں
مگر راتوں کی فرصت میں
تو مجھ کو یاد آتا ہے
تو یوں محسوس ہوتا ہے
میرے صد چاق سینے میں
کوئی خنجر چلاتا ہے
مجھے اکثر رلاتا ہے
یہ آہ سرد کا موسم
یہ ہجروکرب کا سنگم
یہ میرے درد کا موسم
یہ موسم کہ اس موسم میں
تیری یادوں کے جگنو
جب میرا دل جگمگاتے ہیں
تو راتیں جاگ اٹھتی ہیں
ستارے ڈوب جاتے ہیں
اداسی جھلملاتی ہے
اور آنسو ٹمٹماتے ہیں
یہ موسم کہ اس موسم میں
میرا غم ہی میرا بستر
اور تیری یاد کا اوڑھنا ہی ہے
میرے لیے بہتر
میری خوشیوں پہ ہر لحظہ ہے
جمتی گرد کا موسم
یہ موسم خود بھی ہے پر نم
یہ میرے درد کا موسم
یہ موسم کہ اس موسم میں
یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
اور دل بھی کانپ اٹھتا ہے
زباں بھی لڑکھڑاتی ہے
نھیں دیتا سنائی شور پھر
ہنگامہ سازوں کا
نھیں دیتا دکھائی لفظ پھر
کوئی کتابوں کا
یہ موسم ایساموسم ہے
رہے گلشن پہ جو طاری
بہارزرد کا موسم
میرے غم کیسے ہوں گے کم
ہے میرے دردکا موسم
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






