بھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadبھیگی رات میں تنہا ہوں میں جانِ جاں
خالی راہیں تکتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
جہاں پہرو ں بیٹھ کر ہنستے گاتے تھے
اُسی جھیل کنارے بیٹھا ہوں میں جانِ جاں
چند لمحے کیا جیئے تیری حضوری میں
اب ہجر کی سولی لٹکا ہوں میں جانِ جاں
کوئی بھٹکا راہی آب کہے،سراب کو جیسے
تیری دید کو ایسے ترسا ہوں میں جانِ جاں
تو نے کیسے سوچا تجھ سے ناطہ توڑوں گا
بس میری تو اور تیرا ہوں میں جانِ جاں
نہ پوچھ کہ تیرے ہجر میں کیا کیا کرتا ہوں
بس تجھ کو سوچتا رہتا ہوں میں جانِ جاں
میرے دن کٹتے ہیں بن تیرے انگاروں پر
اور شب بھر تارے گنتا ہوں میں جانِ جاں
جسے کچا دھاگہ سمجھ کر تو نے توڑ دیا
وہی نازک نازک رشتہ ہوں میں جانِ جاں
نہ تو آیا نا خبر دی اپنی کس حال میں ہو
جا تجھ سے روٹھ گیا ہوں میں جانِ جاں
کب آؤ گے تم پیاس بجھانے آنکھوں کی
یاں پل پل آہیں بھرتا ہوں میں جان جاں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






