بھرے جہاں میں فقط تیری ہی کمی ہو گی
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanنہ جانے کیسے بسر اب یہ زندگی ہو گی
بھرے جہاں میں فقط تیری ہی کمی ہو گی
کھلیں تو ہوں گی وہ باد صبا کے جھونکوں سے
اداس ترے لیے پر کلی کلی ہو گی
حسین ماضی کی یادیں تجھے رلائیں گی
وطن کو چھوڑ کے جب دور جا چکی ہو گی
کچھ الجھنوں کی بھی زنجیر ہو گی پیروں میں
کچھ اس کی راہ میں حائل برادری ہو گی
بچے بھنور سے تو ساحل پہ زندگی نہ ملی
کسی سے ایسی نہ قسمت نے دل لگی کی ہو گی
فراق میں تو یہ دل بے قرار ہے ، شاید
وصال یار میں بھی مجھ کو تشنگی ہو گی
تھے مصلیحت کے تقاضے ہی اس کے پیش نگاہ
وگرنہ اتنی بھی نہ اس کو چپ لگی ہو گی
گلہ نہیں ہے مجھے تیری بے وفائی کا
مری وفا ہی میں شاید کوئی کمی ہو گی
خوشی ملی بھی تو زاہد اداسیاں اوڑھے
کبھی کسی کو نہ ایسی خوشی ملی ہو گی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






