بند کمرے میں مقدر کی لکیر کو دیکھتا رہتا ہوں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaبند کمرے میں مقدر کی لکیر کو دیکھتا رہتا ہوں
دیوانوں کے جیسے تری تصویر کو دیکھتا رہتا ہوں
لکھ کے ترے نام حالِ دل کاغذوں پے
سوچتا رہتا ہوں میں تحریر کو دیکھتا رہتا ہوں
تُو موجود بھی ہے مگر دیکھائی نہیں دیتی
میں بڑی غور سے اپنی تقدیر کو دیکھتا رہتا ہوں
میرے محافظ نے کیا تھا وار مجھ پے
اِک نظر محافظ اِک نظر شمشیر کو دیکھتا رہتا ہوں
ناجانے کیوں دیکھائی دیتا ہے مجھے میرا عکس
میں اکثر صدا دیتے ہوئے فقیر کو دیکھتا رہتا ہوں
حالاتِ مفلس میں آ کے تھام لیا مجھے
اِس لئے دلبر دل گیر کو دیکھتا رہتا ہوں
نہال میں نہ عاشق نہ شاعر نہ رانجھا
پھر بھی اِک لڑکی میں ہیر کو دیکھتا رہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






