بربریت کی نہ دیکھی اک مثال
Poet: azharm By: azharm, doha بربریت کی نہ دیکھی اک مثال
شرم سے شیطاں کے عارض تھے گُلال
شرم خارج کو نہ کوئی آئی تھی
خوں بہا کر ہو گیا جیسے نہال
جانور تُجھ سے ہیں بہتر خارجی
ہاتھ بچوں پر اُٹھے کس کی مجال
کیوں محافظ جان پائے ہی نہیں
بھیڑئیے تھے انس کی پہنے تھے کھال
دفن کر دے بھیڑیوں کو، کھا نہ لیں
تیرے بچے، چل اُٹھا لے تُو کُدال
مانتا ہوں جو گئے ہیں، سب شہید
بھولنا مت کیوں ہوا لیکن وصال
ہیجڑوں کی فوج ہی بھرتی نہ کر
ڈھونڈھ بستی میں کہیں ہوں گے رجال
اس مُصیبت سے نکلنا ہے تو سُن
سانپ اپنی آستینوں سے نکال
دوسروں کی جاں بچانے چل پڑا
چل پلٹ اپنی کہیں پہلے سنبھال
آگہی اسباب کی ہے ناگزیر
قوم پر آیا تھا کیسے، کیوں زوال
کُچھ خُدا کا خوف کر اظہر کہیں
کیا بنے گا، آ گیا اُس کو جلال
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







