برا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کریں
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississaugaبرا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کر یں
کوئی مہکتی ہوئی شام میرے نام کر یں
صبا بھی پاوْ ں ترے احترام سے چوُ مے
چمن کے پھول بھی جھک کر تجھے سلام کریں
ہو کا ئنات پر کچھ اپنا اختیار تو ، ہم
یہ سارے چاند ستارے تمہارے نام کریں
مچیَ ہے ایک عجب سی اُدھیڑ بن دل میں
اب انکے آ نے پہ کیا خاک اہتمام کریں
لٹا کے خود کو کبھی جس گلی سے نکلے تھے
اُسی گلی میں چلو زند گی کی شام کر یں
اگر ملالِ ستم ہے تو باز آ جا ئیں
اگر ہے لطف، تو یہ لطف لطفِ عام کر یں
بس احتیاط یہ رکھیں چمن کے پھول کہ ہم
ذرا اداس ہیں ، دھیمے سے ہمکلام کر یں
بلادِ غیب سے اُتری ہے ہم پہ دل کی کتاب
جو ہم نے شعر کہے ، ا نکا احترام کر یں
ملو ادب سے ، غر یبوں کے بادشاہ ہیں ہم
امیرِ شہر بھی جھک کر ہمیں سلام کرٰ یں
جو ہو سکے تو کرایہ د یں خانہ ء دل کا
وگرنہ آپ کہیں اور انتظام کر یں
مقام خاص یہ دنیا نہیں ہے انور جی
سرائے عام سمجھ کر یہاں قیام کر یں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






