بدلتے چہرے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UKبھلےکچھُ ہو ہمیں اب جاگنا ہے صبح ہونے تک
کہ دُشمن تاک میں ہے اور شب خوُں کا بھی خطرہ ہے
ذرا سونے سے دُشمن کا کہیں نہ وار چل جاۓ
ہماری دیس نگری ایک ہی پل میں نہ جل جاۓ
ہمیں درکار ہے انبوہ آوازوں کا
لوگوں کا
جو سارے جاگ کر شب بھر مِری سرحد پہ پہرا دیں
کِسی بھی بھیس میں ہو ، یا کہ پھر چہرا بدل آۓ
مگر دُشمن تو دُشمن ہے
نہ دھوکا کھایںٔ سارے لوگ ، اور آنکھیں کھلی رکھیں
ہے چہروں کو بدلنے کا رواج اب عام دُنیا میں
ہے اُن کو جاننا مشکل
کہ اُن کے کھرُدرے لہجے
ملایمٔ پیرہن الفاط کا بھی پہن لیتے ہیں
یہی لگتا ہے کہ جیسے شناسا دوست ہیں اپنے
مگر خنجر چھپا رکھتے ہیں اپنی آستینوں میں
ہے یہ خوبی کمینوں میں
کہ اپنے بھی نہیں ہوتے مگر اپنے سے لگتے ہیں
یہی لگتا ہے ان سے بڑھ کے کویٔ بھی نہیں اپنا
مگر جب وار کرتے ہیں
تو اُس لمحے یہ کھلتا ہے
ہیں اِک چہرے کے پیچھے اور بھی چہرے چھپے کتنے
نہ دھوکا کھایںٔ سارے لوگ اور آنکھیں کھلی رکھیں
ہے چہروں کو بدلنے کا رواج اب عام دُنیا میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






