بد نام
Poet: Madni ali By: Madni Ali, Multanکُچھ صبح کو کر میلا مجھے کُچھ شام کو بدنام کر
ملے خاک میں بھی نا جگہ اتنا مجھے گُمنام کر
کر ستم ایسا کہ تماشا بن جاؤں میں سب کی نظر کا
کبھی اِس گلی کبھی اُس گلی بد نام مجھے سرِ عام کر
میں تیری کھوئی قیمت میں تیرا وقار بن جاؤں
تُو میرے ظرف میرے وقار کو بے دردی سے نیلام کر
میرے خون کا قطرہ قطرہ نچوڑ لے جام میں
میرے کلیجے کے ٹکڑوں سے اپنے طعام کا اہتمام کر
کون چاہتا ہے قید سے رہائی طلب کسے آزادی کی
اپنی نظر کے طلبگاروں کو ہمیشہ کے لیے غلام کر
کُچھ ہو مزا میرے لٹنے کا،کُچھ ہو مزا تیرے لوٹنے کا
لوٹ لے جو میرا چین میرا سکون ایسا کوئی کام کر
حرف سے حرف ملا کر خود کو جوڑا ہے میں نے
تُو میرے نام کے ہر حرف کے ٹکڑے سے ٹکڑے تمام کر
اِک عرصے سے سوگوار رکھا ہے تیری بے رُخی نے علی
اپنی نظروں سے تھام کر میری سانسیں قصہ میرا تمام کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






