اے حُسنِ جُواں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaاے حُسنِ جُواں میرا اک کام کر دے
اپنی زندگی کے بس دو پل میرے نام کر دے
مجھ میں کچھ خامیاں ہیں بر حق
تُو آ کے بد نام مجھے سریام کر دے
میں ہستے ہستے جان قربان کر دوں
تُو اپنے ہاتھوں سے قصہ تمام کر دے
مجھے خُوشی ہو گی ایسی موت پے
تُو شہادتِ عشق میرا انعام کر دے
نہ میرے پیار کے بدلے پیار دے مجھے
اپنی نفرت ہی میری محبت کا انجام کر دے
سُنا ہے نظامِ فلک تیری بات مانتے ہیں
نظریں جُھکا کے آج حسین شام کر دے
کنول کا پھو ل ہو یا کومل گلاب ہو
سورج کی کرن ہو یا حسین مہتاب ہو
تُو دیکھے جس کی جانب بس اپنا غلام کر دے
بادل بنتے ہیں تیری زلفوں کے سائے سے
کھول کے لہرائے تو بارش کا مقام کر دے
تُو بولے تو ہر لفظ تیرا شاعری لگتا ہے
اس کے آگے تُو نہا ل کے ہنر کو عام کر دے
نہ ہر بار ترچھی نگاہ سے د یکھ نہا ل کو
اک بار ہس کے مجھے سلام کر دے
کومل ہاتھو ں میں تلاش کر میرا نام
نہا ل کا اعلان بھری محفل اژدہام کر دے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






